اڈپی 4؍دسمبر (ایس او نیوز)منگلورو کی تین مشہور و معروف کالجوں میں زیر تعلیم 9طلباء کی جانب سے نشے کی حالت میں یہاں پڈوبدری میں ایک KSRTCبس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر پر حملہ کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
موصولہ تفصیل کے مطابق یہ تمام طلباء جو رات بھر شراب نوشی کی وجہ سے نشے میں مست تھے، علی الصبح ہائی وے پر اپنی موٹر سائیکلوں پر کرتب بازی (وھیلنگ) کررہے تھے اور بنگلورو بھٹکل کے ایس آر ٹی سی بس کو سورتکل سے ملکی تک اوور ٹیک کرکے آگے بڑھنے کا راستہ نہیں دے رہے تھے۔ملکی کے پاس بس ڈرائیور نے جب کسی طرح اوور ٹیک کرلیا تو یہ طلباء مشتعل ہوگئے۔اور بس کا پیچھا کرتے ہوئے پڈو بدری کے پاس بس کا راستہ روکنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے بس ڈرائیور گریش کمارکے ساتھ گالی گلوچ کرنے کے علاوہ مارپیٹ بھی کی۔ جب اضافی ڈرائیور جٹپا اور کنڈکٹرناگراج شیٹی نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو انہوں نے ان دونوں پر بھی حملہ کردیا۔بس کے اندر 23مسافر موجود تھے اور جب مسافروں نے بس سے اتر کر حملہ آور طلباء میں سے ایک کو دبوچ لیا تو باقی 8موقع سے فرار ہوگئے۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کرمسافروں کے ذریعے دبوچے گئے طالب علم کو اپنی تحویل میں لیا اور اس سے کہا کہ وہ اپنے دوستوں کو فون کرکے پولیس اسٹیشن بلائے تاکہ بس ڈرائیور اور کنڈکٹر کے خلاف شکایت درج کی جاسکے۔ پولیس کی یہ چال کامیاب ہوئی اور چند ہی منٹوں میں مزید چار طالب علم پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ پولیس نے ان چاروں کو بھی گرفتار کرلیا۔اس طرح پانچ حملہ آورپولیس کی گرفت میں آ گئے ہیں جبکہ بقیہ چاروں کی تلاش جاری ہے۔پولیس میں درج شکایت کے مطابق حملہ آوروں کے نام کوشیک، نیہال، جوئیل، چنتن،ہیتیش، سورو،آکاش ، آدتیہ اور دھنیش بتائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ پولیس نے ملزمین کے پاس سے تین موٹر بائکس بھی ضبط کرلی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ ان ملزمین میں سے نیہال نامی جو طالب علم ہے وہ حال ہی میں خود کشی کرنے والے ڈی وائی ایس پی گنپتی کا بیٹا ہے۔ کہتے ہیں کہ نیہال نے اپنے آنجہانی والد کے حوالہ دیتے ہوئے پولیس پر اثرا نداز ہونے کی بہت ساری کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔